تازہ ترین

حضرت میاں خلیل احمد شرقپوری نقشبدی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کا 6 واں سالانہ عظیم الشان عرس مبارک آج بروز جمعتہ المبارک شرقپور شریف میں احتتام پذیر ہو گیا۔ عرس مبارک میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں زائرین علما مشائخ عظام نے شرکت کی۔ عرس مبارک کا اہتمام سجادہ نشین آستانہ عالیہ شرربانی شرقپور شریف صاحبزادہ حافظ میاں ولید احمد جواد شرقپوری اور صاحبزادہ میاں محمد صالح شرقپوری نے کی۔

حضرت میاں غلام اللہ المعروف ثانی لا ثانی رحمتہ اللہ علیہ

حضرت میاں غلام اللہ جنہیں محبت اور عقیدت کی دنیا میں ثانی لا ثانی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد (شیرربانیؒ) رحمتہ اللہ علیہ کے حقیقی بھائی تھے۔ آپ 1891 عیسوی میں شرقپور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے ابھی بچپنے اور کھیلنے کے دن تھے کہ آپ سایہ پدری سے محروم ہوگئے۔ باطنی طور پر اس میں کیا حقیقت تھی ہم نہیں جانتے مگر ظاہری طور پر یوں لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی تربیت اس شیرربانی کے سپرد کرنی تھی جو سلسلہ نقشبندیہ میں بے بہا شہرت کے مالک تھے۔ آپ اتباع نبوی ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ نے زندگی بھر سنت نبوی ﷺ کا اتباع کیا اور لوگوں کو بھی یہی درس دیا کہ زندگی کے ہر عمل میں سنت نبوی ﷺ کا اتباع کرو۔ آپ جامع علوم ظاہری و باطنی تھے۔ آپ زہدوتقویٰ ،جودوسخا اور برد باری میں بے نظیر تھے۔

آپ نے حضور قبلہ ثانی صاحبؒ کی تربیت اپنے ذمہ لی۔ تو انہی صفات سے آپ کی زندگی کو مزین کرنے لگے۔ آپ نے اولا قرآن پاک کی ناظرہ تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد سکول میں داخل ہوئے۔ اور میٹرک پاس کرنے کے بعد آپ طبیہ کالج لاھور میں داخل ہوے۔ حکیم حازق کا امتحان پاس کیا پھر کچھ عرصہ تک حکیم محمد اسمعاعیل مخی سےطبابت کے فن میں مہارت حاصل کرتے رہے۔ مگر آپ نے طبابت کے پیشے کو اپنایا نہیں۔ کیا خبر یہ انسان کی ان بیماریوں کو دور کرنے کی بیناد ہو جن کا تعلق جسم کے بجائے روح سے زیادہ ہوتا ہے۔ آپ نبض پکڑتے تو اس کی حرکت سے روحانی بیماریوں کی تشخیص فرماتے اور دوا کی نسبت دعا اور نظر سے علاج فرماتے۔

ثانی صاحبؒ قبلہ نے ٹاون کمیٹی شرقپور میں بطور سیکرٹری ملازمت بھی کی۔ اعلیٰ حضرت میاں شیرمحمد صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے اس نوکری کو پسند نہیں فرمایا۔ گو یہ بھی عوام کی ایک خدمت تھی مگر اس کی نست آپ فقر کی راہ میں خدمت کرنے کے لیے آپ کو تیار کرنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ آپ نے اس ملازمت کو جلد ہی خیر آباد کہہ دیا۔ غالبا 1921 عیسوی کی بات ہے کہ کسی شخص نے اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد شیرربانیؒ سے عرض کیا کہ چونکہ حضرت قبلہ میاں غلام اللہ صاحبؒ کا رحجان فقیری کی طرف نہیں ہے بس شہزادگی کو پسند فرماتے ہیں۔ آپ کے بعد اس مسند کا کیا بنے گا؟ آپ نے فرمایا جب کوئی تھاندار یا تحصیل دار بدل جاتا ہے تو اس کی جگہ پر کون آتا ہے اعتراض کرنے والے نے عرض کیا کوئی تھاندار یا تحصیل دار ہی آتا ہے۔ تو آپ نے فرمایا اسی بات پر قیاس کر لو کہ اس گدی کو سنبھالنے والا بھی کوئی اہل گدی ہی ہو گا۔ یہ ایک ایسی بات تھی جس سے واضح ہوتا ہے کہ آپ حضور ثانی صاحب کو اس گدی کے اہل بنا رہے تھے۔ ماسٹر رانا شاہ محمد مرحوم اس بات کے راوی ہیں۔ کہ وہ اس وقت آٹھویں جماعت میں پڑھتے تھے اور برج اٹاری سے جمعہ والا دن میاں صاحب کی مسجد میں نماز جمعہ پڑھنے کی غرض سے آیا کرتے تھے۔ ایک جمعہ کو اعلیٰ حضرت میاں صاحب بڑے سادہ طریقے سے تقریر فرما رہے تھے۔ اور میاں غلام اللہ صاحبؒ کلاہ پر طرہ والی پگڑی باندھے محفل وعظ میں بیٹھے تھے۔ آپ نے انہیں دیکھا انہوں نے آپ کو دیکھا آنکھیں چار ہوئیں تو اچانک ایک نعرہ بلند ہوا۔ میاں غلام اللہ صاحبؒ اپنی جگہ سے اٹھے اور بے خودی کی حالت میں آپ کے قدموں میں آگرے۔ دکھانے والے نے کیا دکھایا اور دیکھنے والے نے کیا دیکھا؟ یہ ایک راز تھا اور راز ہی رہا۔ مگر نگاہ کام کر گئی آپ میاں غلام اللہ ثانی لا ثانیؒ بن گئے۔ پھر سلوک کی منزلیں طے کرتے چلے گئے۔ اسی طرح جب 1928 میں اعلیٰ حضرت میاں صاحب (حضرت شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ) نے وصال فرمایا تو آپ دینا روحانیت سے آشنا ہو چکے تھے۔ آپ میں انسان کی دلی کفیات کو سمجھنے اور انہیں تبدیل کرنے کی صلاحیت پیدا ہوچکی تھی۔

یہ کم وبیش 1943 کی بات ہے۔ حضرت سید الف شاہ صاحب جو میاں صاحب کی مسجد میں بطور امام تھے اور بچوں کو قرآن پاک پڑھایا کرتے تھے۔ انہیں روحانی وظائف پڑھنے کا شوق پیدا ہوا وہ رات گئے اس کام میں مشغو ل رہتے تھے۔ روحانی دنیا میں ان کے سفر ہونے لگے ایک دن فجر کی نماز کے بعد آپ اپنے حجرے میں تشریف فرما تھے ۔ یہ حجرہ حضرت ثانی صاحبؒ کے حجرے کے قریب ہی تھا، حضور ثانی صاحبؒ اپنے حجرے میں جانے کی بجائے، الف شاہ صاحب کے حجرے میں چلے گئے اس وقت حضرت قبلہ الف شاہ صاحب پر روحانی بارش ہورہی تھی۔ وہ اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر تھے۔ ثانی صاحب نے جو انہیں اس حالت میں دیکھا تو فرمایا شاہ صاحب! اتنی جلدی نہ کریں ابھی تو اور محنت کی ضرورت ہے۔ ثانی صاحب کا یہ فرمانا تھا۔ کہ شاہ صاحب اپنی حالت میں آگئے ان کی بے خودی کی حالت بدل گئی۔ فرمایا شاہ صاحب آپ میر ے کمرے میں آئیں۔ آپ حضرت ثانی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے دروازہ اندر سے بند کر لیا۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ کن کن رموز سے پردے اٹھائے گئے اور کن امور پر گفتگو ہوئی۔ بہرحال الف شاہ صاحب کو یہ شکوہ ضرور رہا کہ انہوں نے اجازت کے بغیر جس منزل کی طرف جانے کا سفر کیا تھا وہ منزل انہیں نہیں مل سکی۔ حضرت ثانی لا ثاںی میاں غلام اللہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے تحریک پاکستان میں بھی بھر پور کام کیا۔ مسلم لیگ کا شرقپور شریف میں پہلا اجلاس آپ کی کوششوں سے اور آپ کی صدارت میں ہوا۔ اور اس کے اخراجات بھی آپ نے ادا کیے۔ یہ جلسہ ملکانہ دروازہ شرقپور شریف میں ہوا جس کی صدارت حضرت قبلہ ثانی صاحبؒ نے خود فرمائی اور معزز مہمان جو باہر سے تشریف لائے ان میں

راجہ غضنفر علی
شیخ کرامت علی
چوہدری روشن دین بھنگو
صوفی عبدالحمید
میجرعاشق حسین
چودھری محمد حسین چٹھہ
ملک محمد انور
میاں افتخار الدین

اور دیگر عظیم رہنما شامل تھے جلسہ کا آغاز دن کے 10 بجے ہوا اور اڑھائی گھنٹے تک اس کی کاروائی جاری رہی۔ لوگ آخر وقت تک جم کر بیٹھے رہے۔ اس جلسہ میں 50 ہزار روپے کی خطیر رقم کی ایک تھیلی بھی مسلم لیگ کو پیش کی گئی۔ جلسے کے سارے اخراجات حضرت قبلہ ثانی صاحب نے خودبرداشت کیے۔ اس جلسے کے بعد اب مسلم لیگ کو شرقپور شریف میں ایک پلیٹ فارم پر کام کرنے کا موقع مل گیا۔ حضرت قبلہ ثانی صاحبؒ اس کے سرپرست تھے ۔ اس جلسے کے بعد چھوٹی بڑی میٹنگیں اکثر ہوتی رہیں۔ اور اکثر مسلم لیگ کے ضلعی اجلاس میں آپ شرکت فرماتے رہتے۔ بلکہ آپ نے پنجاب میں ایک بھرپور دورہ کیا۔ اس سلسلے میں آپ کے لاھور، امرتسر، فیروز پور، لائل پور (فیصل آباد) سرگودھا، جھنگ، میانوالی، سائیوال (سابقہ منٹگمری)، ملتان، بہاولپور کے دورے کیے جو بڑی اہمیت کے حامل تھے۔ آپ کی یہ کوششیں خوب رنگ لائیں۔ اللہ نے مسلم لیگ کو کامیابی عطا فرمائی اور مخالفین کے منہ کھلے کہ کھلے رہ گئے۔

حضرت قبلہ ثانی صاحبؒ کو تمباکو نوشی سے سخت نفرت تھی۔ ایک بار ایسا ہوا کہ آپ کے بڑے صاحبزادے میاں غلام احمد صاحبؒ نے اپنی زمینوں پر تمباکو لگا دیا۔ تمباکو کی مہنگی پنیری، زمین کی تیاری اور اسے لگوانے کے اخراجات بہت زیادہ تھے۔ ابھی فصل کو لگے ہوئے ایک ہفتہ ہوا تھا کہ ثانی صاحب زمینوں پر گئے تمباکو کی کاشت کو دیکھا فرمایا۔ یہ کس کی اجازت سے لگایا گیا ہے؟ اتنے میں صاحبزادہ صاحب بھی آگئے۔ آپ نےان سے سخت ناراض ہوکے پوچھا کہ یہ حرام فصل کیوں کاشت کی گئی ہے؟ حضرت صاحبزادہ میاں غلام احمد نے فرمایا، حضور یہ بڑی نفع بخش فصل ہے۔ آپ نے فرمایا مجھے نفع کی ضرورت نہیں۔ مجھے تو اللہ تعالی اور اس کے حبیب ﷺ کی رضا مطلوب ہے۔ فرمایا اس تمباکو کے ایک ایک پودے کی اکھاڑ پھینکو، ایک خادم آگے بڑھا عرض کیا۔ حضور ہل چلادیتے ہیں۔ فرمایا نہیں ہل نہیں چلانا ہاتھوں سے اس کے ایک ایک پودے کو اکھاڑ پھینکو اس کی ایک پتی تک کھیت میں نہ رہنے پائے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

آپ کو تبلیغی کاموں کا بے حد شوق تھا۔ 1944 میں جامعہ حضرت میاں صاحب کی بنیاد رکھی۔ مٹھی بھر آٹا سکیم کے تحت جامعہ کے طالب علموں کے لنگر کا انتظام کیا گیا۔ ہر گھر میں مٹی کا ایک ایک کجار رکھا گیا جس میں عورتیں آٹا گوندتے وقت مٹھی بھر آٹا ڈال دیتی تھیں۔ دو ہفتے بعد یہ کجے مدرسہ میں بھیج دئیے جاتے۔ شروع میں اس مدرسہ کا انتظام میاں صاحب والی مسجد میں کیا گیا۔ پھر حافظ نور علی صاحب کے مکان میں منتقل کیا اور جب محلہ عیدگاہ حضرت باباگلاب شاہ صاحبؒ کے مزار کے سامنے جامعہ کی اپنی عمارت بن گئی تو استاد اور بچے ادھر آگئے۔ اس مدرسے میں بڑے قابل اساتذہ بچوں کی تعلیم وتدریس کے لئے رکھے گئے۔ چند ایک کے نام یہ ہیں۔

مولانا قاضی عبدالسبحانؒ
مولانا اللہ بخشؒ
حضرت مولانا غلام رسول صاحب رضوی شیخ الحدیث فیصل آباد
حافظ محمد علی صاحبؒ
قاری محمد حسن ہوشیارپوری
مولانا عاشق حسین میاں چنوں
مفتی نور حسین صاحب موجودہ صدر مدرسہ

یہاں سے فارغ ہو کر علما ملک کے گوشے گوشے میں جانے لگے مگر جب 1957 میں حضو قبلہ ثانی صاحب کا وصال ہو گیا اور اکتوبر 1958 میں ملک میں فوجی انقلاب آگیا تو دینی مدارس، مساجد اور درگائیں محکمہ اوقاف نے سنبھال لیں۔ جامعہ حضرت میاں صاحب بھی اوقاف کی تحویل میں چلا گیا۔ سرکاری محکموں کی طرح اس میں بھی بے قاعدگیاں آگئیں۔ استاد صرف تنخواہ لینے کے لیے رہ گئے۔ بچوں کی تعلیم کم ہونے لگی یہاں تک کہ صرف قرآن مجید پڑھنے والے چند بچے رہ گئے۔ جامعہ کی بربادی ہوگئی۔ جب وزیر اعلیٰ پنجاب (میاں محمد نواز شریف) موجودہ وزیر اعظم پاکستان شرقپور شریف میں تشریف لائے توصاحبزادہ حضرت میاں غلام احمد صاحب کی کوششوں سے یہ مدرسہ واگزار کر دیا گیا۔ مگر وہ رونقیں واپس نہ لوٹ سکیں۔

اعلیٰ حضرت شیرربانیؒ نے شرقپور شریف، لاھور، کوٹلہ شریف اور مکان شریف میں مساجد تعمیر فرمائی تھیں۔ ان میں کچھ کچی تھیں۔ حضرت ثانی صاحب قبلہ نے اپنے بڑے بھائی کی روائت کو قائم رکھتے ہوئے انہیں پختہ کیا اور انہیں آباد کرنے کی بھی کامیاب کوشش فرمائی۔ ماسٹر محمد انور قمر صاحب مرحوم سابقہ استاد گورنمنٹ پائلٹ سیکینڈری سکول شرقپور، رقم طراز ہیں کہ وہ اپنے بچپنے میں حضرت قبلہ الف شاہ صاحبؒ سے قرآن پاک کی تعلیم حاصل کیا کرتے تھے۔ مسجد کے مہمانوں کے لیے میاں صاحب کے گھر سے لسی لانے کے لیے اکثر مجھے شاہ صاحب بیجھا کرتے تھے۔ میاں صاحب کے گھر کے سامنے ایک کالے رنگ کی کتیا بیٹھی رہتی تھی۔ وہ اجنبی لوگوں پر بھونکا بھی کرتی تھی اور نہیں کاٹنے کو پیچھے بھی دوڑنے لگتی تھی۔ میں اس کے لیے اجنبی تو نہ تھا۔ مگر اسے دیکھ کر ڈرتا ضرور تھا۔ ایک دن نہ جانے اسے کیا ہوا وہ مجھ پر بھی بھونکنے لگی اور کاٹنے کو دوڑی۔ میں ڈر کر بھاگنے لگا تو اس نے میرا پیچھا کیا میں کبھی اسے دیکھتا اور کبھی آگے کو بھاگتا۔ جب میں گلی اور بازار کی نکٹر پر پہنچا تو بازار میں آتے ہوئے حضرت ثانی صاحب گلی مڑنے لگے۔ میں چونکہ تیزی میں تھا دھیان پیچھے کی طرف تھا میں ثانی صاحبؒ سے جا ٹکرایا۔ ثانی صاحبؒ چونکہ جانتے تھے کہ میں مسجد کا طالب علم ہوں۔آپ نے دونوں ہاتھوں سے مجھے سنبھال لیا اور فرمایا کیا ہوا۔ میرا سانس پھولا ہوا تھا۔ میری آنکھوں میں آنسو تھے۔ گھبراہٹ کے عالم میں بڑی مشکل سے بس یہ کہا حضور کتیا کاٹنے کو میرا پیچھا کر رہی تھی۔ حضور نے مجھے فرمایا آو میرے ساتھ اب کتیا آپ کو نہیں کاٹے گئی۔ واقعۃ ایسا ہی ہوا اس کے بعد یہ کتیا ثانی صاحب کے حکم کی پابند ہوگئی اب جب بھی میں لسی لینے کے لئے جاتا۔ یہ کتیا اپنا سرجھکا کر دم ہلانے لگتی۔ مجھے یہ واقعہ یاد کر کے تعجب ہوتا کہ حیوان تو اللہ والوں کے تابع فرمان بن جاتے ہیں مگر انسان میں نہ جانے سرکشی کیوں ہے؟

حضرت قبلہ ثانی صاحب اکثر فرمایا کرتے تھے۔ دینوی معاملات میں سادگی اور دیانتداری اختیار کرو۔ مسلمانوں کو تجارت کی طرف توجہ دینی چاہیے۔ تبلیغ دین واسلام میں کوشش کرنی چاہیے۔ مسلمان دین اور دنیا میں فرق نہیں کرتا۔ اسلام کی طاقت کے سامنے ساری طاقتیں نابود ہیں۔

حضرت قبلہ ثانی صاحبؒ کا وصال سات ربیع الاول 1377ہجری بمطابق 13اکتوبر 1957 عیسوی میں ہوا۔ آپ کو اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کے مزار میں ان کے پہلو میں دفن کیا گیا۔

ممتاز شاعر اور خطیب حضرت مولانا اکبر علی شرقپوری فرماتے ہیں۔

حٖضرت شیرربانی دے باغ اندر بن کے رہے نیں سدا بہار ثانی
ایس گل دے وچ نہ شبہ کوئی ولیاں وچ ہو گئے تاجدار ثانی
ایتھے جو آوے خالی نہ جاوے رہوے وسدا تیرا دربار ثانی
تہانوں شیر ربانی دا واسطہ اے بیڑا کر دینا میرا پار ثانی۔