تازہ ترین

حضرت میاں خلیل احمد شرقپوری نقشبدی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کا 6 واں سالانہ عظیم الشان عرس مبارک آج بروز جمعتہ المبارک شرقپور شریف میں احتتام پذیر ہو گیا۔ عرس مبارک میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں زائرین علما مشائخ عظام نے شرکت کی۔ عرس مبارک کا اہتمام سجادہ نشین آستانہ عالیہ شرربانی شرقپور شریف صاحبزادہ حافظ میاں ولید احمد جواد شرقپوری اور صاحبزادہ میاں محمد صالح شرقپوری نے کی۔

حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ

حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری مشائخ کی دنیا میں فخر المشائخ کے نام سے یاد کئے جاتے ہیں اور پہچانے جاتے ہیں۔ اور آپ واقعتہ فخر المشائخ تھے۔ آپ اپنے مقام اور کام کے اعتبار سے صف اول کے مشائخ میں کھڑے ہونے کے قابل ہیں۔ حضرت صاحبزادہ فیض الحسن شاہ صاحب نے مولانا منصب علی مرحوم صدر مدرس جامعہ دارلمبلیغین کی موجودگی میں صاحبزادہ میاں سیعد احمد صاحب سے فرمایا کہ نقشبندیت اور مجددیت کی متعارف کرانے میں جتنا کام حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ نے کیا ہے اتنا کسی بھی سجادہ نشین کے حصے میں نہیں آیا۔ اس اعتبار سے آپ بجا طور پر قابل فخر ہستی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اگر ایک طرف فخر ملت تھے تو دوسری طرف فخر المشائخ بھی تھے۔ ان کے فخر المشائخ ہونے میں ان کے دینی اور تبلیغی کاموں کی فہرست بڑی طویل ہے۔ اور جب ان کاموں میں ان کی دن رات کی مصروفیات دیکھتے ہیں تو حیرانی ہوتی ہے کہ آپ دوسرے فخر المشائخ کی طرح حجروں میں بالکل نہیں بیٹھے، بلکہ اپنی زندگی کو سفر سے جوڑے رکھا۔ صبح آپ شرقپور شریف میں ہوتے تو دوپہر کو فیصل آباد میں اور رات کراچی میں گزارتے۔ بلکہ رات کا بھی زیادہ حصہ کسی نہ کسی جلسے کی صدرات کررہے ہوتے۔ جلسہ کے منتظمین عمدہ قسم کے کھانے پیش کرتے مگر آپ چند لقمے کھانے پر ہی اکتفا کرتے۔ رات بسر کرنے کا کمرہ اور بستر آپ کو دکھایا جاتا مگر آپ جائے نماز پر سجود وقیام میں لگ جاتے۔ کراچی کے لوگ یہی سمجھتے کہ اب آپ کے آرام کرنے کا وقت ہے صبح سویرے آپ سے ملاقات کریں گئے یا ناشتہ پر بلائیں گے۔ مگر صبح پتہ چلتا کہ آپ پشاور کے لیے روانہ ہو چکے ہیں۔ کچھ لوگ سوال کرتے کہ آپ سوتے کب تھے۔ اس کا جواب ہے کہ آپ سوتے ضرور تھے مگر ہماری طرح گھوڑے بیچ کرنہیں سوتے تھے بلکہ ٹرین اور جہاز میں جب منزل کی طرف رواں ہوتے تو آپ سیٹ کا سہارا لے کر نیند کے خمار کو دور کر لیتے۔

حضرت صاحبزاہ میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری 23 فروری 1933 عیسوی بمطابق 27 شوال 1351 ہجری بروز جمعرات صبح صادق کے وقت پیدا ہوئے۔ آپ حضرت میاں غلام اللہ المعروف ثانی لا ثانی برادر حقیقی حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کے دوسرے فرزند تھے۔ جب آپ پیدا ہوئے اس وقت حضرت ثانی لا ثانی رحمتہ اللہ علیہ نماز فجر کی ادائیگی کے لئے مسجد تشریف فرماتھے۔ نماز سے فراغت کے بعد جب آپ گھر تشریف لائے تو مائی گاماں (دائی غلام فاطمہ زوجہ رحیم بخش ماچھی) نے بچے کی پیدائش کی خوش خبری سنائی۔ یہ خبر سنتے ہی حضرت میاں غلام اللہ صاحب کا چہرہ خوشی و مسرت کے باعث کھل گیا۔ جب آپ اندر تشریف لائے تو مائی گاماں نے بچے کو پیش کرتے ہوئے عرض کیا۔ حضور میرے شہزادے پیر کے کانوں میں اذان کہیں اور گھٹی دیں۔

حضرت ثانی صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے مائی گاماں کو دوسرے تحائف کے علاوہ 60 روپے نقدی اور دوسرے دن اس کے خاوند رحیم بخش ماچھی کو 25 روپے نقدی اور کھیس دیا۔ اس موقعہ پر کسی عورت نے حضرت ثانی صاحب سے عرض کیا یہ بچہ تو جمیل (خوب صورت) ہے۔ آپ نے فرمایا جمیل تو بس احمد مصطفی ﷺ کی ذات ہے۔ چنانچہ جمیل احمد کے امتزاج سے اس شہزادے کا نام جمیل احمد رکھا گیا۔

حضرت صاحبزادہ میان جمیل احمد صاحب واقعی اسم بامسمیٰ تھے۔ سنت مصطفوی ﷺ کے مطابق نومولود کی ولادت باسعادت کے ساتویں روز عقیقہ کیا گیا اور ختنے بھی کئے گئے۔ آپ کے ختنے لالہ غلام محمد حجام نے کئے۔ یہی لالہ غلام محمد حجام اعلیٰ حضرت قبلہ حضرت شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ اور ثانی لا ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی حجامت بھی بنایا کرتا تھا۔

آپ نے اپنی تعلیم کا آغاز قرآن مجید ناظرہ پڑھنے سے کیا۔ مولانا محمد علی صاحب نے آپ سے آپ نے سات سال کی عمر میں قرآن پاک پڑھ لیا۔ اس کے بعد آپ اپنے والد محترم حضرت میاں غلام اللہ ثانی لا ثانی رحمتہ اللہ علیہ سے علوم اسلامیہ کی تعلیم کا آغاز کیا۔ حضرت شیخ سعدی شیرازی کی مشہور زمانہ کتابیں گلستان وبوستان سبقا پڑھیں۔ پھر آپ نے پرائمری سکول شرقپور سے اپنی تعلیم کا آغاز کیا۔ اس وقت سکول کے ہیڈ ماسٹر محمد احمد خان تھے۔ جو بڑے نیک صوم وصلوۃ کے پابند اور باریش تھے۔ پرائمری کی جماعتیں پاس کرنے کے بعد 1944 میں گورنمنٹ ہائی سکول شرقپور میں پانچویں جماعت میں داخلہ لیا۔ اور 1951 میں میٹرک کا متخان پاس کیا۔ ازاں بعد آپ طبیہ کالج میں طب کی تعلیم حاصل کرنے لگے۔ حضرت قبلہ ثانی صاحب کے دست حق پرست پر بیعت کی اور دورودوظائف میں مشغول رہنے لگے۔

آپ کو اشاعت علم سے خاصا لگاو تھا۔ اور تصنیف و تالیف کی لگن اور شوق بہت زیادہ تھا۔ چنانچہ آپ نے مسائل نماز، عربی گرائمر، تذکرہ امام ابو حنیفہ اور ارشادات مجدد الف ثانی اور مسلک مجدد الف ثانی پر کتب لکھ کر شائع کیں۔ آپ نے رسالہ ماہنامہ نور اسلام شیرربانی نمبر اور مجدد الف ثانی تین جلدوں میں شائع کئے اور لطف کی بات یہ ہے کہ سب خصوصی نمبر مفت تقسیم کردیے گئے۔

حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری مدظلہ مشائخ پاکستان میں ممتاز حثیت رکھتے تھے اور آپ اہل سنت کے قدر دان بزرگ ہیں۔ میاں جمیل احمد صاحب نے سلسلہ نقشبندیہ میں سخت محنت سے کام لے کر ملک بھر کا دورہ کیا اور عقیدت مندوں کو روحانی سلسلہ سے مربوط کیا۔ علما و مشائخ سے رابطہ کر کے نقشبندی سلوک کو عام کرنے میں جدوجہد کی۔

لاھور میں 1952 سے 1964 تک مقبول عام پریس میں قیام فرماتے رہے۔ اور ہر جمعرات کو مجلس ذکرو مراقبہ ہوتی۔ 1964 میں بیرون لوہاری دروازہ کے ایک مکان میں جہان علما و فضلا اور مشائخ کا جھمگھٹا رہتا۔ طلبا اور عقیدت مند بھاری تعداد میں آتے میاں صاحب کا دستر خوان بڑا وسیع، زبان شیریں، نگاہ میں احترام، وضعداری میں آل نبی ﷺ کے اوصاف تھے جنہوں نے انہیں ہر دل عزیز بنا دیا تھا۔

حقیقت تو یہ تھی کہ میاں جمیل احمد صاحب ایک نوخیز پیر کی حثیت سے شرقپور شریف کی سجادگی پر جلوہ افروز ہوئے شریعت، حقیقت اور طریقت کی راہ پر گامزن ہوئے۔ لوگ آکر مرید ہوتے۔ آپ کی مجلس احراری لیڈروں کے برعکس ایک مجلس تصوف میں بدلتی رہی۔ جہاں پر علما اہلسنت آتے۔ ذکرونعت ہوتی۔ بزرگارن دین کے واقعات بیان کئے جاتے اور ہر طرف خاموشی ہوتی تو سلسلہ نقشبندیہ کے عقیدت مند مراقبے میں نظر آتے۔ میاں جمیل احمد صاحب بڑے دریا دل صاحبزادے تھے۔ ہاتھ کھلا، مہمان نوازی، دوست نوازی اور پھر مرید نوازی کے سارے مراحل سے گزرتے اور بڑی خوبی سے گزرتے۔

آپ نے اشاعت علوم اسلامیہ میں بھر پور حصہ لیا وہ مشائخ اور علما میں یکساں طور پر مقبول و محبوب تھے۔ عبادت گزار اور شب بیدار تھے۔ آپ نے اسلامی ممالک کے اکثر دورے کئے۔ بزرگان دین کے مزارات پر گئے۔ اور مختلف ممالک کے مشائخ سے ملے۔ آپ نے ہمیشہ علم اور علما سے محبت کی اور ان کی شخصیت کی قدر کی چنانچہ ایسے علما جو ملک میں بڑے مقتدر تھے وہ آپ کے ہاں ایک مقناطیسی کشش کے ساتھ چلے آتے تھے۔ آپ انہیں سر آنکھوں پر بٹھاتے۔ ان کی توقیر و تکریم میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھتے یوں تو ایسے علما کی فہرست بہت طویل ہے مگر چند نام یہ ہیں۔

مولانا محمد بخش مسلم
مولانا محمد اکرم مجددی
مولانا محمد عمر اچھروی
مولانا عبدالغفور ہزاروی
مولانا عبدالحامد بدایوانی
مفتی محمد حسین نعیمی
محقق اعظم حکیم محمد موسیٰ امر تسری
مولانا غلام محمد ترنم
سید ریاض حسین شاہ
مولانا عبدالشکور ہزاروی
مولانا حسن سنبھلی انڈیا
مولانا سید ابوالبرکات لاھور حزب الاحناف
محدث پاکستان حضرت مولانا محمد سردار احمد صاحب فیصل آباد
حضرت سید احمد سیعد کاظمی ملتان
الشیخ سید یوسف ہاشم الرفاعی کوئٹہ
محمد علی مراد باب المبلاحما شام
ہازم مصری جامعہ

اور بہت سے دوسرے۔ ایسے علما کے علاوہ مشائخ کرام پیران عظام اور مختلف آستانوں کے گدی نشینوں کے ساتھ آپ نے ہمیشہ رابطہ رکھا۔ حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد صاحب بڑے مہمان نواز تھے۔ اس کا اندازہ ان کے بچھے ہوئے دستر خوان سے لگایا جاسکتا تھا۔ اکثر لوگ اپنی ہمت اور طاقت کے اعتبار سے اپنے دستر خوان بچھاتے ہیں۔ ان کے دستر خوان محض دوست و احباب اور عزیز اقربا کے لئے بچھتے ہیں۔ مگر میاں صاحب کا دستر خوان تو شیرربانی دستر خوان تھا۔ جسے اعلیٰ حضرت میاں شیرمحمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ نے بچھایا تھا۔ اور اسے لپیٹا نہیں گیا۔ یہ دستر خوان شرقپور شریف کے علاوہ اسلام آباد، کراچی، لاھور، مدینہ طیبہ، عراق، ترکی اور لندن اور دوسرے کئی ممالک میں بھچا ہوا ہے۔ اس دستر خوان سے خاص و عام کے علاوہ مسلم اور غیر مسلم سب مستفید ہورہے ہیں اور انشااللہ ہوتے رہے گئے۔ یہ دستر خوان اگرچہ سادہ ہے مگر لذت اور غذائیت کے لحاظ سے جنت کا لطف پیش کرتا ہے۔ جو شخص ایک بار اس دستر خوان پر بیٹھتا ہے اس کی کوشش ہوتی ہے کو وہ دوبار پھر اس پر بیٹھے۔

مذہبی اور دینی خدمات کے لئے بھی آپ نے 1960 میں جامعہ دارالمبلغین حضرت میاں صاحب کا قیام فرمایا۔ جو پورے انہماک کے ساتھ تدریس قرآن اور درس نظامی کی تکمیل کررہا ہے۔ ہر سال یہاں سے فارغ ہونے والے حفاظ اور علما ملک کے گوشے گوشے میں تبلیغ دین کے لیے جاتے ہیں۔ آپ نے حضرت مجدد الف ثانی رحمتہ اللہ علیہ کو متعارف کرانے کے لیے جو کام کیا ہے وہ شائد کوئی دوسرا نہ کرسکے۔ آپ نے یوم مجدد پاک منانے کی ایک تحریک شروع کی جو بفضلہ تعالیٰ بڑی موثر ثابت ہوئی۔ اب تو ملک کے کونے کونے میں مجدد پاک کی تعلیمات کو عام کرنے کے لیے دن منائے جاتے ہیں۔ انجمنیں بنی ہوئی ہیں جلسے منعقد ہوتے ہیں۔ آپ بھی ایسے جلسوں کی صدرات کرتے رہے ہیں۔ یوم مجدد منانے کی طرح یوم صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی آپ بڑے اہتمام کے ساتھ مناتے اور منانے کی اپیل کرتے۔ اس طرح یوم صدیق اکبر بھی ایک تحریک کا رنگ اختیار کرگیا۔

اعلیٰ حضرت شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کو عام کرنے لیے لئے عرس شیرربانی اور یوم شیرربانی اور ختم مبارک حضرت قبلہ میاں غلام اللہ ثانی لا ثانی بڑے اہتمام کے ساتھ مناتے۔ ملک کے کونے کونے سے لوگ بڑی محبت اور عقیدت کے ساتھ آتے اور فیوض وبرکات سے جھولیاں بھر کے لیے جاتے اور یہ سلسلہ اب تک جاری ہے۔ اور انشااللہ جاری رہے گا۔

مساجد کی تعمیر میں آپ نے خصوصی ذوق و شوق کا مظاہرہ کیا۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق شیرربانی کے نام سے بننے والی تقریبا 62 مسجدیں آپ کی کوششوں کا نتیجہ تھیں۔ یہ مساجد پاکستان ہی نہیں بلکہ بیرون ممالک خصوصا لندن، ترکی اور مدینہ طیبہ میں بھی ہیں۔ ان مساجد کے ساتھ مدارس شیرربانی اور تدریس علوم دین کا کام بھی کرتے رہے۔ اسلام آباد میں بننے والی مسجد شیرربانی میں آپ نے خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔ آپ نے اس کام کے لیے رقوم اکھٹی کیں اور مہینوں تک اس کام کی خود نگرانی فرماتے رہے۔ آپ نے تیس سے زیادہ حج فرمائے عمروں کی تعداد کا کوئی پتہ نہیں۔ آپ اپنے مریدوں سے فرماتے کہ تم مسلمان ہو کر اپنے سچے نبی ﷺ کی سنت پر عمل کرتے ہوئے جھجک محسوس کرتے ہو مگر سکھوں کو دیکھو وہ تو اپنے گرو کی پیروی کرتے ہوئے کسی قسم کی جھجک اور شرم کو خاطر میں نہیں لاتے۔ آپ اپنے ہر ملنے والے کو سنت کے مطابق داڑھی رکھنے اور سادہ لباس پہننے کی تلقین فرماتے۔

آپ نے 11 ستمبر 2013 کو بوقت نماز عصر اس جہاں فانی سے پردہ فرمایا اور اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ آپ کی وفات کی اچانک خبر ملک بھر میں عقیدت مندوں اور مریدوں کے لیے دردناک خبر تھی۔ ہر مکتبہ فکر کے لوگ پریشان نظر آئے۔ آپ کی روح اس جہان فانی سے اس انداز سے پرواز کرگئی کہ ہر دیکھنے والے لیے ایسی موت حسرت بن گئی۔ آپ کے چہرے مبارک پر ایک پرسکون مسکراہٹ تھی۔ اپنی وفات سے چند ہفتے قبل اپنے ایک خادم محمد ایوب سے مختلف ایام بدھ کی تاریخیں پوچھتے اور نوٹ کرواتے جسیے کہ انہیں بہت پہلے ہی اس بدھ کا انتظار تھا۔ آپ کے پیار ومحبت کی بنا پر ہر مکتبہ فکر کے لوگ آپ کا احترام کرتے۔ آج بھی شرقپورشریف کے پورے علاقے سے ایک بھی فرد ایسا نہیں ملے گا جو حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری کا نام احترام سے نہ لیتا ہو یا آپ کا کوئی گلہ کرتا ہو۔ آپ کی نماز جنازہ میں حد نگا تک لوگوں کے سر ہی سر نظر آرہے تھے۔ گاڑیوں کی قطاریں تین چار میل تک لگ گئی تھیں اور لوگ پیدل چل کر جنازہ میں شریک ہونے کے لیے آرہے تھے۔ ایک اندازے کے مطابق آپ کے جنازہ میں کوئی تین لاکھ کے قریب لوگ شریک ہوئے۔