تازہ ترین

حضرت میاں خلیل احمد شرقپوری نقشبدی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کا 6 واں سالانہ عظیم الشان عرس مبارک آج بروز جمعتہ المبارک شرقپور شریف میں احتتام پذیر ہو گیا۔ عرس مبارک میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں زائرین علما مشائخ عظام نے شرکت کی۔ عرس مبارک کا اہتمام سجادہ نشین آستانہ عالیہ شرربانی شرقپور شریف صاحبزادہ حافظ میاں ولید احمد جواد شرقپوری اور صاحبزادہ میاں محمد صالح شرقپوری نے کی۔

حضرت میاں خلیل احمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ

حضرت صاحبزادہ میاں خلیل احمد شرقپوری نقشبندی مجددی رحمتہ اللہ علیہ اعلیٰ حضرت شیرربانی میاں شیرمحمد صاحب شرقپوری نقشبندی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کے برادر حقیقی اصغر حضرت ثانی لا ثانی میاں غلام اللہ صاحب شرقپوری نقشبندی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کے پوتے اور فخر المشائخ حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری نقشبندی مجددی دامت برکاتہم القدسیہ کے لخت جگر اور آستانہ عالیہ شیرربانی شرقپورشریف کے چشم و چراغ تھے۔

ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا

پیر میاں خلیل احمد شرقپوری نقشبندی مجددی رحمتہ اللہ علیہ 5 اکتوبر 1956عیسوی بطابق 29 صفر المظفر 1376 ہجری کو بروز جمعہ سرزمین شرقپور شریف میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی قدر فخر المشائخ الحاج حضرت صاحبزادہ میاں جمیل احمد شرقپوری نقشبندی مجددی رحمتہ اللہ علیہ نے سنت کے مطابق آپ کے کان میں اذان پڑھی اور خلیل احمد نام رکھا۔ سنت کے مطابق آپ کا ساتویں روز عقیقہ کیا گیا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ حضرت میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری نقشبندی مجددی کے سب سے بڑے صاحبزادے تھے۔

پیر میاں خلیل احمد شرقپوری نقشبندی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کا قد درمیانہ تھا۔ سربڑا تھا اور بال گھنے تھے۔ آپ سر کےبال عموما درمیانے رکھتے تھے۔ داڑھی سنٹ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مطابق قبضہ بھر تھی۔ ابرو گھنے تھے۔ پیشانی خوبصورت کشادہ تھی۔ چہرہ خوبصورت اور گول تھا۔ آنکھیں بڑی بڑی نور برساتی تھیں۔ پلکیں لمبی تھیں۔ رنگ گورا تھا۔ ٹھوڑی سیب کی طرح گول۔ جسم بھاری تھا۔ دانت چمکتے ہوئے موتیوں کی طرح تھے۔ ہونٹ گلاب کی پتیوں کی طرح نرم و نازک تھے۔ یعنی ہر لحاظ سے خوبصورت تھے۔

لوگوں کا گمان یہی ہے کہ آپ رحمتہ اللہ علیہ جس کے حق میں دعا فرمادیتے تھے اس کا کام ہو جاتا تھا۔ مگر پھر بھی آپ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے تھے کہ میں تو کچھ بھی نہیں ہوں۔ بس بزرگوں کا صدقہ ہے اور اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ لوگ میرے متعلق ایسا گمان کرتے ہیں۔

پیر صاحبزادہ میاں خلیل احمد صاحب شرقپوری نقشبندی مجددی رحمتہ اللہ علیہ جمعرات 10 صفر المظفر 1433 ہجری بمطابق 5 جنوری 2012 عیسوی، 21 پو 2068 بکرمی کی صبح کو 55 سال 3 ماہ کی عمر میں اس دنیا فانی سے منہ موڑ کر خداوندی رحمت اور اس کی جنت میں انتقال کرگئے۔ انا للہ وانا اليه راجعون