تازہ ترین

حضرت میاں خلیل احمد شرقپوری نقشبدی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کا 6 واں سالانہ عظیم الشان عرس مبارک آج بروز جمعتہ المبارک شرقپور شریف میں احتتام پذیر ہو گیا۔ عرس مبارک میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں زائرین علما مشائخ عظام نے شرکت کی۔ عرس مبارک کا اہتمام سجادہ نشین آستانہ عالیہ شرربانی شرقپور شریف صاحبزادہ حافظ میاں ولید احمد جواد شرقپوری اور صاحبزادہ میاں محمد صالح شرقپوری نے کی۔

اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ شرقپوری

حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ پنجاب کے ان اولیا کرام میں سے ہیں جنہوں نے سلسلہ نقشبندیہ میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔ آپ پیدائشی ولی تھے۔ آپ اتباع نبوع ﷺ کی جیتی جاگتی تصویر تھے۔ آپ نے اپنی پوری زندگی اتباع سنت میں گذاری اور اپنے پیروکاروں کی بھی یہی درس دیا کہ زندگی کے ہر فعل میں سنت نبوی کی اتباع کرو۔ آپ جامع علوم ظاہری وباطنی تھے۔ آپ علم، ریاضت، مجاہدہ، زہد، جودوسخا اور بردباری میں بے نظیر تھے۔ گویا کہ آپ اپنے وقت کے قطب الاقطاب اور ولی کامل تھے۔ آپ کی برکت سے کئی مردہ دل نور الہی سے منور ہوئے ہیں اور آج بھی آپ کا ذکر اور نام بڑی عقیدت وارفتگی سے لیا جاتا ہے۔

آپ کے نقشبندی اباو اجداد کابل سے ہجرت کر کےپنجاب آئے اور قصور میں رہائش اختیار کی۔ وہاں سے حجرہ شاہ مقیم میں رہائش اختیار کی پھر وہاں سے شرقپور میں آکر آباد ہوئے۔ آپ کے والد ماجد کا نام میاں عزیز الدین تھا۔ ذات کے ارائیں تھے۔ کھیتی باڑی ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ یہاں شرقپور میں حضرت میاں شیر محمد شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کی پیدائش 1865 عیسوی میں ہوئی۔ آپ کی ولادت کے بعد ہی سے آپ کے جسم اطہر اور چہرہ نورانی سے ولی کامل ہونے کے اثار روز روشن کی طرح ظاہر تھے اور ہر شخص جو حضرت صاحب کو دیکھتاتھا بے اختیار پکار اٹھتا تھا کہ یہ بچہ تو مادر زاد ولی ہے۔ آپ کی پیدائیش سے قبل ایک مرتبہ دریائے راوی میں طغیانی آگئی۔ دریائے راوی میں جب بھی ظغیانی آتی شرقپور بھی زد میں آجاتا۔ فصلیں اور مویشی، انسان گھر سبھی متاثر ہوتے۔ اس بار جب طغیانی آئی اور تمام تدبیریں ناکام ہوگئیں تو شرقپور شریف کے لوگ قریب کے ایک قصبے کوٹلہ پنجوبیگ پہنچے۔ وہاں ان دنوں ایک نامی گرامی فقیر رہا کرتے تھے۔ زہدوتقوی، علم وفضل اور جلال وکمال کے سبب دور دور تک آپ کا چرچا تھا۔ سفید داڑھی، سرخ وسفید رنگ، اونچا قد آنکھوں میں ایک خاص چمک اور روشن چہرہ تھا۔ یہ بابا امیر الدین رحمتہ اللہ علیہ تھے۔ لوگوں نے ان کے پاس جا کر دہائی دی کہ بابا شرقپور میں سیلاب آگیا ہے ہم ہر تدبیر کر کے دیکھ چکے ہیں۔ اب دعا کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

متعدد تذکروں میں مرقوم ہے کہ بابا امیر الدین نے سوالیوں کو اپنا رومال دیا اور ہدایت کی۔ ـؒلوگو! جاو اور دریا کو یہ میرا رومال دکھا کے اس کو میرا سلام کہناـ سوالی مطمن نہیں ہوئے لیکن بابا نے خاموشی اختیار کر لی۔ آخر لوگ امیدوبیم کے عالم میں رات کے وقت شرقپور واپس پہنچے۔ دریا ٹھاٹھیں ماررہاتھا اور شہر کے گرد مسلسل اپنا گھیرا تنگ کر رہا تھا۔ لوگوں نے بابا کی ہدایت پر بعینہ عمل کیا اور اپنے گھروں کو جاکر عبادت میں مشغول ہوگئے۔ دوسری صبح دریا شرقپور سے تین کلومیڑ پرے ہٹ گیا اور مکان ومکین دونوں ناگہانی بلا سے محفوظ ہوگئے۔

سیلاب کے کچھ عرصہ بعد لوگوں نے رومال والے بابا امیر الدین کو شرقپور میں دیکھا۔ شہر کے لوگ سمٹ سمٹا کر ان کے گرد جمع ہوگئے اور تعظیم واحترام سے دعا کے طالب ہوئے۔ کسی نے جرات کر کہا کہ حضور غلاموں کو خدمت کا موقع دیجیے۔ بابا مسکرائے اور ایک جانب چل دیے۔ شرقپور اسے زمانے میں ایک قلعہ نما بستی تھی۔ کچے پکے مکانات اور تنگ گلیاں تھیں۔ بابا بڑھتے جارہے تھے، ان کے پیچھے ایک ہجوم سرجھکائے چل رہا تھا۔ وہ ایک تنگ گلی میں پہنچ کر ایک مکان کے پاس ٹھہر گئے اور لمبی لمبی سانسیں کھینچنےلگے۔ لوگوں کو بہت جستجو ہوئی لیکن کچھ سوچ کر خاموش ہورہے۔ اس کے بعد بابا کا شرقپور میں آنا جان معمول بن گیا۔ وہ جب بھی آتے مختلف گلیوں سے ہوتے ہوئے اس مکان تک پہنچتے اور گہری گہری سانسیں لینے لگتے۔ ایک دن کسی انے آگے بڑھ کر پوچھ لیا۔ بابا تم کیا سونگھتے ہو یہاں۔ بابا امیر الدین بے نیازی سے جواب دیا۔ جا اپنی راہ لے۔ پھر وہ مضطرب انداز میں بولے خوشبو آتی ہے، پر خود نہیں آتے۔ آس پاس کھڑے لوگوں نے پوچھا بابا کیا کوئی خوشبو آتی ہے جو اتنی لمبی لمبی سانسیں کینچھتے ہو تم۔۔۔ بابا مسکرائے، ہاں بیلیو خوشبو تو آتی ہے پر اب انہیں بھی آجانا چاہیے لوگ پوچھتے۔ بابا کسے ؟ بابا سوال کرنے والوں کو اضطراری نظروں سے دیکھتے ہوئے آگے بڑھ جاتے۔ 1857 کی جنگ آزادی ناکام ہوئے ابھی تھوڑا عرصہ گزرا تھا کہ برطانوی حکومت مسلمان باغیوں کی تلاش میں پنجاب کا گاوں گاوں چھان رہی تھی۔ چھاپے پہ چھاپے پڑ رہے تھے۔ نفسا نفسی کا عالم تھا۔ کچھ حجت پسند لوگوں نے شرقپور میں بابا امیر الدین کی معنی خیز آمد کو نئے نئے رنگ دینے شروع کر دیے۔ بعض لوگ نے ڈھکے چھپے لفظوں میں اس شک کا اظہار کیا کہ کہیں یہ شخص درویش کے لبادے میں فرنگیوں کا کوئی کارندہ نہ ہو اور یہاں باغیوں کی تلاش میں نہ آتا ہو۔ اسی دوران کا ذکر ہے۔ 1865 کی ایک رات تھی لوگوں نے بابا امیر الدین کو پھر شرقپور میں دیکھا۔ آج بابا درمیان میں کہیں نہ ٹھہرے۔ انہوں نے سیدھے اس مکان پر جا کر دم لیا، جہاں سے انہیں خوشبو آتی تھی۔ آج ان کا عالم ہی کچھ اور تھا۔ لوگوں نے انہیں اس عالم میں پہلے کبھی نہ دیکھا تھا۔ آج نہ انہوں نےلمبی لمبی سانسیں کھینچیں، نہ کسی ترددوتجسس کا اظہار کیا۔ جو یہاں آکر ان پر طاری ہو جاتاتھا۔۔۔ لوگوں نے بابا سے اس تبدیلی کا سبب پوچھا۔ بابا نے ساختہ اس مکان کی طرف اشارہ کیا اور والہانہ انداز میں بولے۔ دیکھا وہ آگئے۔ آخر آہی گئےہیں۔۔۔ متحیر لوگوں نے سوال کیا۔ کون آگئے باب۔۔۔۔بابا نے خندہ لبی سے جواب دیا، میاں عزیز الدین سے پوچھو جا کے۔ لوگوں بے تابانہ بڑھ کر دروازے پر دستک دی۔ پتا چلا کہ آج اس گھر میں ایک لڑکا پیدا ہواہے۔ لوگ مڑے مگر بابا جاچکے تھے۔ شہریوں کی نظر میں میاں عزیز الدین کے گھر کی وقعت اور بڑھ گئی۔ ہر چند کہ پہلے بھی یہ گھر اپنے مکینوں کی پرہیزگاری کے باعث بستی کے ایک ممتاز گھر کی حشیت سے پہچانا جاتا تھا۔

آباو اجداد اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد رحمتہ اللہ علیہ

حضرت میاں شیر محمد المعروف شیرربانی رحمتہ اللہ علیہ کے آباو اجداد افغانستان سے ہندوستان آئے تھے پہلے وہ دیپالپور میں مقیم ہوئے پھر زمانے کے انقلاب نے خاندان کے بعض بزرگوں کو شہر قصور میں پناہ لینے پر مجبور کیا۔ علم وہنر کے سبب شہر کے روسا ان کے حلقہ بگوش ہوگئے اور انہیں مخدوم کے لقب سے یاد کرنے لگے۔ دین کی تدریس و تبلیغ ک سوا اس خاندان کا کوئی مشغلہ نہیں تھا۔۔ وہ محنت و مشقت کی روزی پر یقین رکھتے تھے اس لیے اپنی کتابوں اور قرآن پاک کی کتابت کرتے تھے۔ قرآن پاک کا حفظ اس خاندان کی روایت تھی۔ حالات کچھ معمول پر آئے تو ان میں چند بزرگ دیپال پور واپس چلے گئے مگر خاندان کے باقی لوگوں کو قصور کی آؓب وہوا اور اس کے لوگ ایسے پسندآئے کہ وہ وہیں کے ہوکے رہ گئے۔ میاں عزیز الدین کے نانا مولوی غلام رسول کو قصور کے باشندے بے حد عزیز رکھتے تھے۔ مولوی غلام رسول تپاک ، انکسار، دیانت اور زہد وتقوی میں ایک مثال تھے۔ وہ حافظ ہونے کے علاوہ خطاط بھی تھے۔ لوگ اپنے دینی اور سماجی مسائل کے حل کے لیے ان ہی سے رجوع کرتے تھے۔

اس دور میں قصور آج کے قصور سے بہت مختلف تھا اس وقت شہر کا ستارہ عروج پر تھا اور پنجاب کے خوشحال علاقوں میں اس کا شمار ہوتا تھا دور دور کے صاحبان کمال اور اہل ہنر یہاں جمع ہو گئے تھے۔ نیز یہ شہر ایک تجارتی مرکز بھی تھا۔ پھر نجانے کیا ہوا قصور کو کسی کی نظر لگ گئی۔ یہاں کے حاکم نواب نظام الدین خاں کی مہاراجہ رنجیت سنگھ سے رنجش ہوگی۔ رنجیت سنگھ کی یورش سے تقریبا سبھی کچھ تباہ وبرباد ہو کے رہ گیا۔ تاہم کچھ عرصہ بعد پھر سے عمارتیں اٹھنے لگیں۔ پھر دوسرے یا تیسرے سال شہر کے دوسرے حاکم نواب قطب الدین کے عہد میں رنجیت سنگھ نے دوبار فوج کشی کی اور وہ ریاست کو غضب کرنے ارادہ رکھتا تھا۔ لوگوں نے اس بار بھی زبردست جنگ کی لیکن دو ماہ کے محاصرے نے شہر کے غلے کے زخیرے کو ختم کر دیا اور ایسا قحط پڑا کے لوگ دانے دانے کو ترسنے لگے، مویشیوں پر گزار ہونے لگا مویشیوں کے بعد سواری کے گھوڑوں کی باری آئی، لوگوں نے انہیں سے پیٹ بھرا۔ آخر یہ ذخیرہ بھی ختم ہو گیا۔ مرتے کیا نہ کرتے لوگ شہر سے بھاگ کھڑے ہوئے۔ میاں غلام رسولؒ بھی قصور کے ایک قصبے حجرہ شاہ مقیم چلے گے اور خوشنویسی کا مشغلہ اختیار کر کے جیسے تیسے زندگی بسر کرنے لگے مگر کچھ عرصے بعد انہیں یہاں سے بھی ہجرت کرنی پڑی یاایں کہ انہوں نے شرقپور آ کے پناہ لی۔ شرقپور نے ان خانماں بربادوں کے لیے اپنے دروزے کھول رکھے تھے۔ مولوی غلام رسول نے وہیں اپنا مسکن بنایا اور ایک مسجد اور ایک مدرسے کی بنیاد رکھی۔ اس کچی پکی درس گاہ نے دیکھتے ہی دیکھتے ایک بڑی علمی خانقاہ کی صورت اختیار کر لی۔ مولوی غلام رسولؒ کے ایک بھتیجے تھے حافظ غلام حسین ۔ ان سے میاں صاحب نے اپنی اکلوتی لڑکی آمنہ کی شادی کردی تھی۔ انہی کے بطن سے میاں عزیز الدین ؒ تولد ہوئے۔ تقوی کسی کو ورثے میں نہیں ملتا البتہ عبادت و ریاضت کا ماحول میاں عزیز الدین کو ورثے میں ملا تھا۔ وہ ایک شب بیدار بزرگ تھے باطنی علوم کے علاوہ ظاہری علوم سے بھی پیراستہ تھے۔ دینوی امور میں گھر میں رہنے کے باوجود دنیا سے بچے بچے رہتے تھے۔ ضلع حصار کے محکمہ ویکسی نیشن سے وہ ایک مدت تک وابستہ رہے۔ تعطیلات میں وہ اپنے گھر شرقپور میں آتے تھے۔ نوکروں کو ساتھ بٹھا کر کھانا کھلانا ان کا معمول تھا۔ اپنے کپڑے وہ خود دھوتے تھے۔ بلکہ بسا اوقات نوکروں کے کپڑے بھی دھو دیتے تھے۔ ان کے محکمے میں رشوت ستانی عام تھی لیکن انہوں نے ساری عمر سوکھی تنخواہ پر بسر کی۔ جو خوشبو شرقپور کی ایک گلی میں بابا امیر الدین سونگھتے تھے وہ میاں عزیز الدین کے ہاں ایک فرزند کی صورت میں مجسم ہوئی۔ والدہ آمنہ نے اپنی خاندانی روایات کے مطابق نومولود کی تربیت کا بیڑا اٹھایا۔ ساتویں روز لڑکے کا نام شیر محمد رکھا گیا۔

حضرت میاں شیر محمد رحمتہ اللہ علیہ کا بچپن

بابا امیر الدین تو اشارہ کر کے چلے گے لیکن اشاروں سے کیا ہوتا ہے۔ میاں عزیز الدین کے لیے ان کا بیٹا ایک بیٹا ہی تھا اور محلے داروں کے لیے دوسرے بچوں جیسا ایک بچہ۔ میاں غلام رسول خاندان کے سب سے معمر بزرگ تھے انہوں نے آپ کا چہرہ دیکتھے ہی آپؒ کے منہ میں زبان ڈال دی۔ شیر خوار دیر تک ان کی زبان چوستے رہے۔ اس طرح ورثہ منتقل ہو گیا۔ میاں غلام رسولؒ کو آپ کے نانا کے علاوہ دادا کی حثیت بھی حاصل تھی۔ اوہ انہیں ایک پل کے لیے بھی آنکھوں سے اوجل نہ ہونے دیتے اور کمسنی میں ہی علم وحکمت کے رموز سمجھانے کی کوشش کرتے۔ آپ پلکیں پٹ پٹاتے اور مسکراتے ہوئے سنتے رہتے۔ آپ میں سادگی اور معصومیت کے ساتھ ساتھ بعض مجنونانہ ادائیں بھی تھیں۔ جو نانا کو دیوانہ کر دیتی تھیں۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ آپ کو ہمہ وقت سینے سے لگائے رکھیں۔ نانا اور نواسے کی یہ رقابت زیادہ دیر قائم نہ رہ سکی۔ میاں غلام رسولؒ کا بلاوا آگیا۔ زندگی کے آخر لمحوں میں میاں غلام رسول نے اپنے دوسرے نواسے یعنی میاں عزیز الدین کے بھائی حمید الدین کو وصیت کی تھی کہ ، دیکھ حمید! ہم شیر محمد کو تیرے حوالے کر رہے ہیں جو کچھ تجھے آتا ہے وہ ایسے سونپ دے اور جو کچھ نہیں آتا اس کے لیے بھی اس کی رہنمائی کر۔ ہماری دعائیں تیرے ساتھ ہیں۔ حافظ حمید الدین کا شمار عربی و فارسی کے اساتذہ میں ہوتا تھا۔

آپ جیسے ہی چلنے پھرنے کے قابل ہوئے قرآنی آیات سے آپؒ کی تعلمیات کا آغاز کیا گیا۔ آپ نے پہلا قاعدہ بہت جلد ازبر کر لیا تھا۔ ماں اور چچا کی نگرانی میں آپؒ نے گھر میں ناظرہ قرآن ختم کیا۔ وہ حرف شناس ہوگئے تھے۔ چچا نے آپ کو شرقپور کے سکول میں داخل کروایا۔ سکول کی فضا آپ کے لیے نئی تھی، ماں اور چچا کی خواہش پر آپ پابندی سے سکول تو چلے جاتے مگر وہاں آپ کا جی نہیں لگتا تھا۔۔ چچا آپ کی بے دلی پر ہراساں ہو گے۔ آپ کے اساتذہ بتاتے کے آپؒ جماعت میں گم سم بیٹھے رہتے ہیں۔ آپ کا عجب عالم تھا چھٹی کی گھنٹی بجتی تو سب بچے کھیل کود میں مشغول ہو جاتے لیکن آپ مسجد کا رخ کرتے اور وہاں جاکر سرجھکائے تنہا بیٹھے رہتے۔ بہر صورت کسی نہ کسی طرح آپ نے پانچویں جماعت پاس کر لی۔ چچا کو احساس ہو گیا کہ مدرسہ آپ کے لیے مناسب نہیں ہے۔ انہوں نے مستقل طور پر آپ کے نگاہوں کے سامنے رکھنا شروع کر دیا اور فارسی کی درسی کتب سے ابتدا کی۔ دادا حافظ محمد حسین نے بھی توجہ کی اور قرآن کا آموختہ کرایا۔ آپ کا یہ حال تھا کہ جب سپارہ پڑھنے کو دیا جاتا تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو جاتے سپارہ بھیگ بھیگ کر چند روز میں خستہ ہو جاتا۔ دادا آپ کی اشک فسانی کی وجہ پوچھتے تو جواب سکوت کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ دادا اور چچا کی درخواست پر شہر کے ایک عالم حکیم شیر علی نے آپ کو کتابوں کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے اب بھی کتابوں میں کسی دلچسپی کا اظہار نہ کیا۔ ہاں آپ کو خوشنویسی سے ضرور کسی قدر رغبت ہوئی۔ مدرسے ہی میں آپ حروف و الفاظ کو ایک کہنہ مشق خطاط کی طرح نئی نئی شکلیں دینے لگے تھے۔ آپ نے مختلف خطوں میں قرآن پاک لکھنے کی مشق کی۔ آپ کی مکتوبہ بیاضیں اور قرآنی نسخے دیکھ کر بڑے بڑے کاتب نقاش اور خطاط انگشت بہ لب رہ جاتے تھے۔ کسی کو یقین نہیں آتا تھا کہ یہ کام نو مکتب کا کیا ہوا ہے۔ درج میں اعلیٰ حضرت میاں شیر محمد رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ سے لکھا ہوا اسم ذات آپ ملاحظہ کر سکتے ہیں۔

یہ شغف تو تھا ہی، آپ کو بچپن سے ایک اور شوق بھی تھا۔ آپ کو گھوڑے بہت پسند تھے۔ آپؒ کو گھوڑوں اور ان کی سواری کا شوق تھا۔ کھبی طبعیت جولانی پر آتی تو آپ گھوڑے پر بیٹھ کر شہر سے میلوں دور نکل جاتے۔ شہر کے لوگ دنگ رہ جاتے کہ اس لڑکے کی تو ابھی مسیں بھی نہیں بھیگی ہیں، یہ کس بے جگری سے ایک قوی الحبثہ گھوڑے پر اڑا جارہا ہے۔