تازہ ترین

حضرت میاں خلیل احمد شرقپوری نقشبدی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کا 6 واں سالانہ عظیم الشان عرس مبارک آج بروز جمعتہ المبارک شرقپور شریف میں احتتام پذیر ہو گیا۔ عرس مبارک میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں زائرین علما مشائخ عظام نے شرکت کی۔ عرس مبارک کا اہتمام سجادہ نشین آستانہ عالیہ شرربانی شرقپور شریف صاحبزادہ حافظ میاں ولید احمد جواد شرقپوری اور صاحبزادہ میاں محمد صالح شرقپوری نے کی۔

صاحبزادہ میاں جلیل احمد شرقپوری

اقبال مند اور بلند قسمت رکھنے والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ہونہار بردا کے چکنے چکنے پات۔ بچہ ابھی ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کے تین نہایت اہم فیصلے ہو جاتے ہیں۔

1-عمر کتنی ہوئی
2-رزق کس قدر پائے گا
3-سعید ہوگا یا شقی

ان تین فیصلو کی کا نتیجہ عالم غیب میں ہے کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ بالآخر کیا ہوگا۔ لیکن ایسا شخص زندگی کی جو راہیں متعین کرتا ہے۔ اس سے پتہ چل جاتا ہے کہ اس کا انتخاب درست ہے یا غلط۔ اس کا چلنا پھرنا کام کرنے کا سلیقہ اور ستاروں پر کمند ڈالنے کی جہتیں شروع میں دکھائی دینےلگتی ہیں۔

یہ نشان یہ سلیقے اور قرینے صاحبزادہ میاں جلیل احمد کی زندگی میں اس وقت ہی دیکھے جانےلگے جبکہ ابھی بچے تھے۔ چونکہ میاں جلیل احمد کا گھرانہ شروع سے ہی ایک مذہبی اور دینی گھرانہ چلا آرہا ہے۔ روحانی خانقاہ ہونے کے باعث بڑے اجل علما اور بزرگوں کی آمدورفت کا سلسلہ قائم ہے۔ میاں جلیل احمد کی نشست و برفاست ایسے بزرگوں سے رہی ہے جس سے یہ بات ان کے ذہین میں واضع ہوگئی کہ دین اسلام ہی کامیابی کا راستہ ہے اور اس کےذریعے ہی ہم ایک پرسکون اور پروقار زندگی گزارسکتے ہیں۔ لیکن معاشرتی حالات اس کی تائید نہ کرتے۔ دین کی سمجھ بوجھ نہ رکھنے والوں سے بعض ناپسندیدہ باتین سننا پڑتیں۔

یہ لوگ مادہ پرست ذہن رکھنے والے ہیں۔ ان کی نزدیک اسلامی اصولوں کے مطابق زندگی گزارنا ناممکن ہے۔ اور یہ بات اس وقت زیادہ تقویت پکڑتی ہے جب مولوی حضرات بھی نجی محفلوں میں یہ بات کہہ جاتے ہیں کہ دینوی نظام حیات کے تقاضے اب بدل چکے ہیں اور یہ بات سچ ہی لگنے لگتی ہے کہ آج سودی اور بینکاری نظام کے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے۔

صاحبزادہ میاں جلیل احمد کو یہ باتیں ناگوار گزرتیں وہ اسلامی اور مغربی معاشیات کے تقابل اور تناظر سے جائزہ لینا چاہتے تھے۔ لہذا انہوں نے میڑک پاس کرنے سے قبل ہی معاشیات پڑھنے کا فیصلہ کرلیا اور پختہ ارادہ بھی کہ اسلامی معاشیات میں سپیشلائزیشن کریں گے۔ تا کہ یہ بات دنیا پر واضح کرسکیں کہ انسان کو جو نظام معیشت خالق کائنات کی طرف سے ملا ہے وہی افضل واعلیٰ ہے اور برحق بھی اور ہر زمانہ میں قابل عمل بھی۔ صاحبزادہ میاں جلیل احمد 6 مارچ 1962 عیسوی بمطابق 29 رمضان 1383 ہجری بروز منگل حضرت میاں جمیل احمد صاحب شرقپوری کے ہاں پیدا ہوئے۔ اور گلستان شیرربانی میں پھول بن کر مسکرائے۔ فخر المشائخ حضرت میاں جمیل احمد کے گھر میں اس تیسرے فرزند نے خوشیاں بکھیر دیں۔ آپ کا نام جلیل احمد رکھا گیا۔

آپ کا بچپن کا زمانہ نہایت اجلا اور ستھرا رہا۔ آپ گلی کے بچوں کے ساتھ بالکل نہیں کھیلتے اور نہ ہی بچوں کی ناشائستہ باتوں سے آپ کی زبان آشنا ہوئی۔ آپ نے سکول اور قرآن مجید کی تعلیم ایک ساتھ شروع کی۔ میاں صاحب والی مسجد میں حضرت قاری غلام محمد صاحب سے قرآن مجید ناظرہ پڑھا۔ مقامی گورنمنٹ پائلٹ سیکنڈری سکول سے 1981 میں میٹرک کا امتحان سائنس مضامین کے ساتھ پاس کیا۔ پھر گورنمنٹ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاھور میں داخل ہوئے اور 1983 میں ایف اے کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ 1986 میں گریجوایٹ ہوئے۔ اور پھر پنجاب یونیورسٹی میں ایم اے اکنامکس کے لیے داخل ہوئے اور اللہ تعالیٰ کے خاص کرم سے 1988 میں یہ امتحان بھی پاس کرلیا۔