تازہ ترین

حضرت میاں خلیل احمد شرقپوری نقشبدی مجددی رحمتہ اللہ علیہ کا 6 واں سالانہ عظیم الشان عرس مبارک آج بروز جمعتہ المبارک شرقپور شریف میں احتتام پذیر ہو گیا۔ عرس مبارک میں ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں زائرین علما مشائخ عظام نے شرکت کی۔ عرس مبارک کا اہتمام سجادہ نشین آستانہ عالیہ شرربانی شرقپور شریف صاحبزادہ حافظ میاں ولید احمد جواد شرقپوری اور صاحبزادہ میاں محمد صالح شرقپوری نے کی۔

صاحبزادہ میاں محمد سعید احمد شرقپوری

آپ خانوادہ شیرربانی شرقپور شریف کے چشم و چراغ ہیں۔ اور فخر المشائخ صاحبزادہ حضرت میاں جمیل احمد شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ کے نور نظر ہیں۔ آپ 3 اپریل 1960 عیسوی بمطابق 6 شوال 1379 ہجری بروز اتوار پیدا ہوئے۔ آپ حضرت میاں جمیل احمد صاحب کے دوسرے فرزند ہیں۔ حضرت صاحبزادہ میاں خلیل احمد صاحب شرقپوری رحمتہ اللہ علیہ آپ کے بڑے بھائی تھے۔ آپ کا گھرانہ علمی، ادبی، مذہبی اور روحانی ہے۔ حضرت میاں صاحب والی مسجد کے امام قاری غلام محمد رحمتہ اللہ علیہ سے آپ نے قرآن مجید پڑھا اور سکول میں داخل ہو کر دنیاوی تعلیم کا آغاز کیا۔ جسے ایف اے تک مسلسل جاری رکھا۔

چونکہ آپ کا ذہن شروع سے دینی اور مذہبی تھا لہذا کالج کی تعلیم کے دوران میں کالج کی ایسی تحریکات میں شرکت کرتے جن سے دینی پہلو کی تربیت ہوتی ہو۔ ایسی تحریکات کا انحصار زیادہ تر کالج کی یونین پر منحصر ہوتا ہے۔ لہذا اس یونین کی دینی بنانے کے لیے کالج یونین کے انتخابات میں شرکت کرتے اور اس انداز سے انتخاب لڑتے کہ آپ کا پورا پینل جیت جاتا۔ اس طرح کالج کی فضا دینی اور مذہبی رہی اور کالج سے فارغ ہونے کے بعد آپ کالج کے انتخابات میں طلبا کی راہنمائی کرتے رہے۔ اس سے آپ مسجد کے مولوی اور خطیب تو نہ بن سکے البتہ الیکشن کی مہم کو کامیاب بنانے اور الیکشن لڑنے اور جیتنے میں ماہر ہوگئے۔ 1993 میں ملک میں عام انتخابات ہوئے تو جمیت العلمائے پاکستان نیازی گروپ کی ٹکٹ پر صوبائی انتخابات میں شرکت کرنے کا اعلان کردیا۔ لوگ حیران تھے کہ صاحبزادہ صاحب کی عمر ابھی اس کام کے لیے پختہ نہیں ہے اور نہ ہی الیکشن لڑنے اور جیتنے کا تجربہ ہے۔ اگر خدانخواستہ ناکامی ہوئی تو اچھا نہ ہوگا۔ مگر آپ بڑے مطمن تھے۔ انتخابی جلسوں میں خطابات میں آپ بڑے واشگاف الفاظ میں کہتے کہ میں حضرت شیرربانی کی اجازت سے کھڑا ہوا ہوں۔ کامیابی یقینی ہے۔ آپ کے مقابلے میں بڑے بڑے تجربہ کار امیدوار تھے۔ بلکہ سیاست ان کے گھر کی باندی تھی۔ مگر آپ میدان میں آگئے۔ آپ نے اپنی الیکشن کی مہم کو اس سلیقے اور قرینے سے چلایا کہ ہردن انہیں کامیابی کی منزل کے قریب کرتا رہا۔

پھر لوگوں نے دیکھا کہ صاحبزادہ صاحب اپنی نشست پر کامیاب ہوگئے۔ اس طرح 1997 میں پھر مسلم لیگ ن کے پلیٹ فارم سے انتخابات لڑا اور کامیابی حاصل کی۔ بحثیت ایم پی اے آپ اسمبلی میں بڑے متحرک رہے۔ اپنا مذہبی تشخص قائم رکھا اور اپنے جسم کی دینی قبا پر کوئی بھی بدنما دھبہ نہیں لگنے دیا۔ نفاذ اسلام کی قراردار آپ نے پیش کی۔ جسے متفقہ طور پر پاس کرلیا گیا۔ دوران اجلاس مغرب کی نماز پڑھنے کے لیے آپ کے کہنے پر کاروائی روک دی گئی۔ یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نعرے آپ کی وجہ سے پہلی بار اسمبلی ہال میں بلند ہوئے۔

آپ سے سوال کیا گیا کہ سیاست میں آپ نے کیا دیکھا ہے۔ کیا کھویا اور کیا پایا ہے اور کیا کرکے دکھایا ہے؟

فرمانے لگے سیاست میں الجھاو زیادہ ہیں۔ سیاست کا زیادہ کاروبار جھوٹ پر چل رہا ہے۔ اور یہ سیاست کا قصور نہیں ہے۔ بلکہ سیاست کے میدان میں آنے والوں کا قصور ہے۔ وہ بذات خود اچھے نہیں ہوتے۔ لہذا سیاست بدنام ہوجاتی ہے۔ جو اچھے لوگ ہوتے ہیں وہ سیاست میں آنا پسند نہیں کرتے۔ دینی سوچ رکھنے والوں سے لوگ کہتے ہیں کہ آپ غلاظت کی راہ میں کیوں قدم رکھتے ہیں۔ آپ کو تو اللہ نے پہلے ہی بڑی عزت دےرکھی ہے۔ صاحبزادہ صاحب نے فرمایا کہ اگر دین دار لوگ منتخب ہو جائیں تو اسمبلی کی سیاست اچھی ہوسکتی ہے۔